+923076652006
quranfamilyclub@gmail.com
English flag
English
Select a Language
English flag
English
$
USD
Select a Currency
United States Dollar
$
Pakistan Rupee
United Arab Emirates dirham
د.إ
Saudi Arabia Riyal
ر.س
United Kingdom Pound
£
Euro Member Countries
China Yuan Renminbi
¥
Indonesia Rupiah
Rp
0
ahsan-al-radd-digital-education-ethics
ahsan-al-radd-digital-education-ethics

ahsan-al-radd-digital-education-ethics

ilm-aur-ahsan-al-radd-modern-education-and-digital-ethics

Molana Samiullah Aziz
Written by Molana Samiullah Aziz
Published on 28 Oct 2025
Study Duration 5 Mins.

یہ مضمون قرآن و سنت کی روشنی میں "علم اور احسن الردّ" کے فلسفے کو جدید تناظر میں واضح کرتا ہے۔اسلام نے تعلقات، تربیت، اور سماجی نظام کی بنیاد “ردّ” (جواب) پر رکھی — چاہے وہ سلام کا ہو، احسان کا، یا علم کا۔سورۃ النساء کی آیت فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا کے مفہوم سے یہ مضمون یہ بتاتا ہے کہ علم، تربیت اور نصیحت کے ہر تبادلے میں احسن الردّ یعنی بہترین جواب دینا کیوں ضروری ہے۔یہ تحریر استاد و شاگرد، ادارہ و طلبہ، والدین و اولاد، شوہر و بیوی، اور ڈیجیٹل دنیا کے تعلقات میں شکر، دعا، فیڈبیک اور عمل کے ذریعے ردّ احسان کے مختلف پہلوؤں کو کھولتی ہے۔مضمون واضح کرتا ہے کہ فیس دینا علم کی قیمت نہیں بلکہ تعاون علی البر والتقویٰ کی عملی صورت ہے — ایک ایسا اخلاقی نظام جس میں ہر فرد اپنی ذمہ داری بروقت ادا کرے تو معیاری تعلیم، یکسوئی اور روحانی برکت پیدا ہوتی ہے۔ڈیجیٹل مثالوں کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ آن لائن کورس، ویب سائٹ، یا کسی دوست کی نصیحت کا بہترین ردّ یہ نہیں کہ ہم خاموش رہ جائیں، بلکہ ایک جملہ، ایک دعا، یا ایک مثبت فیڈبیک ہی احسن الردّ کی علامت ہے۔آخر میں مضمون یہ نتیجہ پیش کرتا ہے کہ علم لینا عبادت ہے، اور اس کا احسن الردّ — یعنی شکر، عمل اور خیر کی واپسی — اس عبادت کی روح۔یہی طرزِ عمل انسان کو “اوپر والا ہاتھ” بناتا ہے:وہ جو صرف لیتا نہیں، بلکہ لوٹاتا ہے — محبت، علم، دعا اور خیر کے ساتھ۔

علم اور احسن الردّ — جدید تعلیم و ڈیجیٹل اخلاقیات کے آئینے میں

استاد، شاگرد، ادارہ، فیملی اور آن لائن دنیا میں حسن الرد کی عملی شکلیں

اسلام نے تعلقات کی بنیاد “ردّ” (جواب) پر رکھی — چاہے وہ سلام کا جواب ہو، نیکی کا، یا علم کا۔قرآن مجید نے فرمایا:وَإِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ۗ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا سورۃ النساء: 86جب تمہیں کسی تحیۃ (سلام) سے نوازا جائے تو اس سے بہتر جواب دو، یا ویسا ہی لوٹا دو، بے شک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔یہ اصول صرف زبانی سلام تک محدود نہیں۔یہ آیت ایک اخلاقی دستور ہے:جب بھی تمہیں کسی سے خیر، فائدہ، علم، یا رہنمائی ملے —تو تم اس کا جواب بہتر، نرم اور شکر کے ساتھ دو۔اسی تصور کو نبی ﷺ نے وسعت دی:جو تم پر احسان کرے، تم اس کا بدلہ دو۔ اگر بدلہ نہ دے سکو تو اس کے لیے دعا کرو یہاں تک کہ تم سمجھو کہ تم نے احسان کا بدلہ دے دیا۔سنن ابوداؤد: 1672یہی “احسن الردّ” ہے لفظوں سے بڑھ کر کردار کا جواب۔

علم میں احسن الردّ کا فلسفہ:

اسلام میں “علم” صرف معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ نور ہے — ایک ایسا نور جو دلوں کو منور کرتا اور زندگیوں کا رخ بدل دیتا ہے۔اور “احسن الردّ” اسی نور کا عکس ہے؛ کیونکہ جب انسان علم کو حاصل کرنے کے بعد شکرگزاری، عمل، اور خیر خواہی سے جواب دیتا ہے، تو وہ محض قاری نہیں رہتا بلکہ نور کو عمل میں ڈھالنے والا بن جاتا ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُالرحمن: 60کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ ہو سکتا ہے؟علم حاصل کرنا دراصل ایک احسان کو قبول کرنا ہے، کیونکہ علم دینے والا صرف بات نہیں کرتا — وہ اپنا وقت، تجربہ، جذبہ، اور نیت خرچ کرتا ہے۔لہٰذا شاگرد یا سیکھنے والے پر لازم ہے کہ وہ صرف لینے والا نہ رہے، بلکہ احسن الردّ کے ذریعے اس احسان کا جواب خیر سے دے۔

علم کی دنیا میں احسن الردّ کی تین بنیادی جہتیں ہیں:

1.   دل کا ردّ: علم لینے والے کے دل میں استاد کے لیے شکر، احترام اور محبت پیدا ہو۔

2.   زبان کا ردّ: علم کے بدلے میں زبان سے دعا، تعریف، یا مثبت فیڈبیک دیا جائے تاکہ دینے والے کی حوصلہ افزائی ہو۔

3.   عمل کا ردّ: حاصل علم پر خود عمل کیا جائے، اور اسے دوسروں تک پہنچا کر اس خیر کو جاری رکھا جائے۔

یہ تینوں جہتیں مل کر “احسن الردّ” کا کامل دائرہ بناتی ہیں — یعنی دل، زبان، اور عمل کی ہم آہنگی۔

فیس دینا — کیا یہ احسن الردّ ہے؟

اسلامی تصورِ تعلیم میں فیس یا معاوضہ علم کی قیمت نہیں بلکہ “تعاون علی البر والتقویٰ” کی ایک عملی صورت ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِالمائدہ: 2نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ و زیادتی کے کاموں میں مدد نہ کرو۔یہ آیت ایک اصولی بنیاد فراہم کرتی ہے:جہاں نیکی، خیر، علم یا اصلاح کا عمل جاری ہو، وہاں مالی معاونت دراصل “علم کی خرید و فروخت” نہیں بلکہ نیکی میں شرکت ہوتی ہے۔استاد اپنے وقت، محنت، اور نیت سے خیر پہنچاتا ہے،اور شاگرد اپنی استطاعت کے مطابق اس خیر کے تسلسل میں معاون بن جاتا ہے۔یوں فیس دینا محض مالی ادائیگی نہیں بلکہ صدقۂ جاریہ اور برّ و تقویٰ کی شرکت ہے۔اگر کوئی شاگرد یہ سمجھتا ہے کہ وہ “علم خرید رہا ہے”،تو وہ علم کے تقدس کو محدود کر دیتا ہے۔لیکن اگر وہ یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ “نیکی کے نظام میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے” —یعنی استاد کے علم کے فروغ کو ممکن بنا رہا ہے —تو یہ عمل “تعاون علی البر والتقویٰ” بن جاتا ہے۔اس صورت میں استاد دینے والا، شاگرد سیکھنے والا،اور دونوں اللہ کی رضا کے مقصد کے شریک بن جاتے ہیں۔یوں فیس دینا نہ سودے بازی ہے، نہ علم کا سودا،بلکہ ایک مقدس اشتراک ہے —جہاں ایک ہاتھ علم دیتا ہے،اور دوسرا ہاتھ اسے آگے بڑھانے کا وسیلہ فراہم کرتا ہے۔اسی توازن سے “علم” عبادت بنتا ہے،اور “فیس” شراکتِ خیر۔جب یہ شعور پیدا ہو جائے، تو استاد و شاگرد کا رشتہ صرف دنیاوی نہیں رہتا،بلکہ آخرتی اجر کا ذریعہ بن جاتا ہے —کیونکہ دونوں ایک ہی مقصد کے شریک ہیں:اللہ کی رضا کے لیے علم کی خدمت۔

عملی مثالفرض کیجیے ایک استاد نے آپ کو قرآنِ تجوید سکھائی۔آپ نے معمول کے مطابق فیس ادا کر دی — یہ ردّ ہے، یعنی معاہدے کی تکمیل۔لیکن اگر آپ یہ کہیں:استادِ محترم! آپ کی بدولت میری تلاوت میں سکون آ گیا، میں نماز میں اللہ کے کلام کو محسوس کرتا ہوں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔تو یہ احسن الردّ ہے —یہ وہ لمحہ ہے جب علم کا رشتہ صرف “کلاس روم” سے نکل کر عبادت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔خلاصہ یہ کہ:اسلامی تعلیم میں “احسن الردّ” کا مطلب محض شکریہ کہنا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ علم ایک امانت ہے، اور اس کے بدلے میں شکر، دعا، اور خیر کا جذبہ لوٹانا ایک ایمانی فریضہ ہے۔علم لینا نور حاصل کرنا ہے،اور احسن الردّ اس نور کو عمل، شکر، اور نیکی کے چراغوں میں بدلنے کا نام ہے۔

استاد اور شاگرد کے درمیان احسن الردّ

شاگرد کا کردار

شاگرد کا احسن الردّ یہ ہے کہ وہ علم حاصل کرنے کے بعد استاد کے لیے دعا، احترام، اور شکرگزاری ظاہر کرے۔

اگر استاد سختی سے سکھائے، تو شاگرد کا جواب ادب اور نرمی ہو — کیونکہ یہی اس کی تربیت ہے۔

حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے:“جس نے مجھے ایک حرف سکھایا، میں اس کا غلام بن گیا۔”

عملی مثال:

استاد نے کہا: “بیٹا! تمہاری تحریر کمزور ہے، محنت کرو۔”شاگرد نے کہا: “جزاک اللہ، ان شاء اللہ بہتر کروں گا۔”یہ “احسن الردّ” ہے — عاجزی کے ساتھ علم قبول کرنا۔

استاد کا کردار

اگر شاگرد غلطی کرے، تو استاد کا احسن الردّ نرمی اور رہنمائی میں ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا:“نرمی جس چیز میں ہو، اسے زینت بخشتی ہے، اور جس سے نکال لی جائے، اسے بدنما بنا دیتی ہے۔”صحیح مسلم: 2594

عملی مثال:

ایک شاگرد نے سبق بھول گیا۔استاد نے کہا: “کوئی بات نہیں، آج پھر دہراتے ہیں۔”یہ “فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا” کا زندہ نمونہ ہے۔

ادارہ اور طلبہ: احسن الردّ بطورِ نظام:

ایک تعلیمی ادارہ محض عمارت نہیں، بلکہ احترام اور فیڈبیک کا سماج ہے۔“احسن الردّ” کا اصول ادارے اور طلبہ کے تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔

ادارے کا احسن الردّ:

طلبہ کی شکایت پر توجہ دینا

شکریہ یا تعریف پر جواب دینا

کارکردگی پر حوصلہ افزائی کرنا

طلبہ کی محنت کا اعتراف کرنا

مثال:

اگر کسی اسٹوڈنٹ نے کہا:“سر، آپ کے لیکچر نے مجھے موٹیویٹ کیا۔”تو ادارے یا استاد کا احسن الردّ یہ ہے کہ جواب دے:“اللہ تمہیں علمِ نافع دے، تمہاری بات میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔”

طلبہ کا احسن الردّ:

فیس کی ادائیگی کے ساتھ ادب، شکریہ اور دعا۔

سیکھے گئے علم کو پھیلانا۔

ادارے کے نظم و ضبط کی پاسداری۔

فیملی میں احسن الردّ:

خاندان انسان کی پہلی درسگاہ ہے۔اگر اس میں احسن الردّ کی روح زندہ ہو، تو محبت، عزت اور اعتماد قائم ہوتا ہے۔

والدین کے ساتھ:

وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا  الاسراء: 23اور والدین سے نرمی اور عزت کے ساتھ بات کرو۔

عملی مثال:

ماں نے کہا: “بیٹا، فون کم استعمال کرو۔”بیٹے نے کہا: “جی امی، آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، کوشش کروں گا۔”یہ “احسن الردّ” ہے۔

شوہر اور بیوی میں:

نبی ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہترین ہے۔    ترمذی: 3895

عملی مثال:

بیوی نے کہا: “آپ دیر سے آئے۔”شوہر نے جواب دیا: کام زیادہ تھا، تمہاری فکر تھی۔یہ تلخی کا نہیں، محبت کا احسن الردّ ہے۔

ڈیجیٹل دنیا میں احسن الردّ

آج علم صرف کلاس روم میں نہیں، بلکہ ویب سائٹس، یوٹیوب، ایپلیکیشنز، اور کورسز میں بکھرا ہوا ہے۔مگر ہم وہاں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اکثر خاموش رہ جاتے ہیں۔یہ ردّ تو ہے، مگر احسن الردّ نہیں۔

آن لائن احسن الردّ کی شکلیں:

1.   کسی ویڈیو یا کورس سے فائدہ ہوا — “جزاک اللہ، بہت مفید تھا” لکھنا۔

2.   کسی آرٹیکل یا لیکچر نے اثر ڈالا — “اللہ آپ کو برکت دے” کہنا۔

3.   کسی ویب سائٹ سے علم ملا — ایک مثبت ریویو یا فیڈبیک دینا۔

4.   مفت مواد استعمال کیا — دوسروں کو لنک شیئر کر کے خیر پھیلانا۔

“جو شخص کسی نیکی کی طرف رہنمائی کرے، اسے اس نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔”صحیح مسلم: 1893

یعنی:آن لائن “احسن الردّ” یہ ہے کہ ہم علم دینے والے کی حوصلہ افزائی اور علم پھیلانے میں حصہ لیں۔

فیس: ذمہ داری، تعاون اور احسن الردّ کی عملی صورت:

               اسلام میں تعلیم کا نظام محض ایک ذاتی فائدے یا انفرادی کوشش کا معاملہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی تعاون کا سلسلہ ہے۔“فیس” اسی تعاون کا مالی پہلو ہے، جو علم کی قیمت نہیں بلکہ علم کے نظام کو قائم رکھنے کی ذمہ داری ہے۔جب اس تعلیمی سلسلے سے جڑے تمام افراد — استاد، شاگرد، اور ادارہ  اپنی اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا کرتے ہیں، تب ہی معیاری تعلیم وجود میں آتی ہے۔استاد اپنی ذمہ داری یہ سمجھ کر ادا کرتا ہے کہ وہ صرف معلومات نہیں دے رہا، بلکہ کردار تراش رہا ہے۔ادارہ اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے کہ وہ تعلیم کے لیے مناسب ماحول، وسائل اور سہولتیں مہیا کرے۔اور شاگرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مالی اور اخلاقی تعاون بھی بروقت کرے، تاکہ یہ نظام صحت مند، منظم اور پائیدار رہے۔جب طلبہ فیس نہیں دیتے یا تاخیر کرتے ہیں، تو یہ صرف ایک مالی رکاوٹ نہیں ہوتی بلکہ علمی معیار پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔استاد خواہ چاہے کہ وہ دلجمعی سے تیاری کرے اور بہتر انداز میں پڑھائے، مگر مسلسل مالی بے یقینی یا تاخیر اس کی توجہ کو منتشر کر دیتی ہے۔نتیجتاً وہ نہ اپنی صلاحیت پوری طرح استعمال کر پاتا ہے، نہ ہی طلبہ کو وہ توجہ اور یکسوئی دے پاتا ہے جو معیاری تدریس کے لیے ضروری ہے۔اس طرح ایک چھوٹی سی غفلت، پورے علمی ماحول کے حسن کو متاثر کر دیتی ہے۔اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو فیس دینا علم کا سودا نہیں بلکہ خیر کے ایک سلسلے کو قائم رکھنے میں حصہ ڈالنا ہے۔یہ “تعاون علی البر والتقویٰ” کا عملی مظہر ہے، جس میں شاگرد اپنے استاد اور ادارے کے ساتھ ایک نیکی کے نظام میں شریک ہوتا ہے۔یہ تعاون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ استاد بغیر معاشی پریشانی کے اپنی تمام توجہ علم کی خدمت پر مرکوز رکھے، اور ادارہ اپنی سہولتوں کو بہتر بنا سکے۔لہٰذا، فیس ادا کرنا دراصل احسان کے ردّ کا پہلا قدم ہے —یہ ایک اخلاقی وعدہ ہے کہ "میں اس نیکی کے سفر کا حصہ ہوں"۔اگر یہ ذمہ داری سب بروقت ادا کریں تو علم کا دریا جاری رہتا ہے،استاد مطمئن رہتا ہے، شاگرد یکسو رہتا ہے،اور “احسن الردّ” کی روح — یعنی خیر کے بدلے خیر لوٹانا —پوری طرح ظاہر ہو جاتی ہے۔یوں تعلیم کا نظام تجارت نہیں، عبادت بن جاتا ہے؛اور فیس اس عبادت کی صدقہ نما بنیاد۔

احسن الردّ کا روحانی اثر:

جو شخص احسن الردّ کرتا ہے:اس کے دل میں شکر آتا ہے،اللہ اس کے علم میں برکت دیتا ہے،رشتوں میں محبت اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔قرآن میں فرمایا گیا:لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْابراہیم: 7اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور بڑھا دوں گا۔یعنی شکرگزاری، فیڈبیک، یا احسن الردّ — سب برکت کے دروازے ہیں۔جدید دور میں علم کا “احسن الردّ” صرف کلاس روم یا درسگاہ تک محدود نہیں رہا، بلکہ ہماری روزمرہ زندگی، آن لائن روابط، اور خاندانی تعلقات تک پھیل گیا ہے۔ اب یہ وہ اخلاقی معیار ہے جو ہر موقع پر جھلکتا ہے جہاں ہمیں کسی سے نفع، نصیحت یا خیر ملتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی طالب علم کسی آن لائن کورس سے سیکھتا ہے اور اسے فائدہ ہوتا ہے، تو کورس ختم کرکے خاموشی سے بند کر دینا محض علم لینا ہے، لیکن اگر وہ لکھ دے “جزاک اللہ، یہ تجربہ میرے لیے بہت مفید رہا”، تو یہی احسن الردّ ہے — ایک چھوٹا سا جملہ جو دینے والے کے دل میں خوشی اور حوصلہ پیدا کرتا ہے۔اسی طرح استاد جب نصیحت کرے یا رہنمائی دے، تو صرف “جی ٹھیک ہے” کہہ کر بات ختم کر دینا ایک رسمی ردّ ہے، جبکہ اگر شاگرد بعد میں جا کر کہے: “سر، میں نے آپ کی بات پر عمل کیا اور واقعی فائدہ ہوا” — تو یہ وہ اخلاقی چمک ہے جو علم کو زندہ رکھتی ہے۔ یہی شکرگزاری وہ “احسن ردّ” ہے جس سے علم کا رشتہ محض فکری نہیں بلکہ انسانی بن جاتا ہے۔ڈیجیٹل دنیا میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ جب ہم کسی ویب سائٹ پر کوئی مفید مضمون پڑھتے ہیں اور بغیر تبصرے کے چلے جاتے ہیں، تو یہ صرف استفادہ ہے۔ لیکن اگر ہم ایک مختصر تبصرہ چھوڑ جائیں — “بہترین مواد، اللہ آپ کو جزائے خیر دے” — تو یہ آن لائن ماحول میں احسن الردّ کی خوبصورت صورت ہے۔اسی طرح اگر کسی دوست نے ہمیں کوئی کتاب دی، اور ہم نے محض لوٹا دی، تو یہ رسمی تعلق رہا۔ مگر اگر ہم دل سے کہیں: “یہ کتاب میری سوچ بدل گئی، آپ کا بہت شکریہ”، تو یہ دوستی نہیں بلکہ خیر کے رشتے کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔اور سب سے اہم مثال گھریلو زندگی کی ہے — جب کسی فیملی ممبر، والدین یا شریکِ حیات کی طرف سے کوئی نصیحت آئے، تو اکثر انسان غصے یا الجھن میں جواب دے دیتا ہے۔ لیکن اگر ہم تھوڑا رک کر کہیں: “جی، آپ درست فرما رہے ہیں، میں دھیان رکھوں گا”، تو یہی احسن الردّ ہے — یہی وہ نرم اخلاق ہے جو رشتوں میں سکون، احترام اور محبت پیدا کرتا ہے۔یوں ہر موقع پر جہاں ہمیں کچھ بھلائی، نصیحت یا علم ملے، ہمارا بہترین ردّ یہی ہونا چاہیے کہ ہم احسان کا جواب احسان سے دیں، خیر کا جواب خیر سے دیں، اور علم کا جواب شکر سے دیں۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جس سے علم کی روشنی صرف دماغوں میں نہیں بلکہ دلوں میں اترتی ہے۔ نتیجہ: احسن الردّ — علم کا مکمل دائرہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ علم لینا عبادت ہے،اور اس کا احسن الردّ بھی عبادت۔علم کا حق یہ نہیں کہ ہم اسے یاد کر لیں،بلکہ یہ کہ اس کے ذریعے تعلق، ادب، اور خیر پھیلائیں۔

استاد سے سیکھا → دعا دو۔

ادارہ سہارا دے → شکریہ ادا کرو۔

ویب سائٹ سے فائدہ لو → کمنٹ یا شیئر کرو۔

فیملی تمہیں نصیحت کرے → نرمی سے جواب دو۔

یہی “فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا” کا عملی مفہوم ہے۔یہی ایمان کی پہچان ہے۔اور یہی وہ “اوپر والا ہاتھ” ہے —جو صرف لیتا نہیں، لوٹاتا بھی ہے — محبت، علم، اور دعا کی صورت میں۔

اللہ تعالی ہمین علم نافع عطا فرمائے اور خیرسیکھنے اور سکھانے والوں میں ہمیں شامل فرمائے آمین۔

Comments

Abida
Abida
Student
28 Oct 2025
G boht shukrya sir g boht acha essay Likha hy apny boht sary points clear hoye hen Waqya E hmry ander feedback Ki kami Hy JIS sy bigar Aya Hy Zada TR ESA hota hy K agr koi shakhs APNA Input dy ra Hy Kisi Bhi surt m usko agr appriate n Kya Jata support n Kya Jata to wo ya to is chz sy Khud ko rok leta hy ya fr mazed motivation n ati us m
Sami Ullah Aziz
Sami Ullah Aziz
Admin
28 Oct 2025
جزاک اللہ خیرا
Reply to Comment
Comments Approval

Your comment will be visible after admin approval.

ahsan-al-radd-digital-education-ethics
You are studying
ahsan-al-radd-digital-education-ethics
Study Duration 5 Mins.